درسِ زہد وتوکُّل

حضرتِ سیِّدُنا احمد بن حَوَارِی علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابو سلمان علیہ رحمۃ الرحمن کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' ایک مرتبہ میں ''لُکَام'' کے پہاڑوں میں گیا،وہاں ایک نوجوان اپنے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس طرح مناجات کر رہا تھا :'' اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! اے امیدوں کو عطا سے میرے اعمال مکمل ہوتے ہیں! میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس دعا سے جو تیری بارگاہ تک نہ پہنچے ۔ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بد ن سے جو تیری…Read more

ایک عبادت گزار خادمہ

بصرہ کے قاضی عبید اللہ بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ '' میرے پاس ایک حسین وجمیل عجمی لونڈی تھی ، اس کے حُسن وجمال نے مجھے حیرت میں ڈال رکھا تھا۔ ایک رات وہ سورہی تھی۔ جب رات گئے میری آنکھ کھلی تو اسے بستر پر نہ پاکر میں نے کہا: ''یہ تو بہت بُرا ہوا ۔''پھر میں اسے میں مشغول ہے۔ اس کی نورانی پیشانی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ ریز تھی۔ وہ اپنی پُر سوز آواز سے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح عرض…Read more

مامون کی ذَہانت

حضرت عبداللہ بن محمود فرماتے ہیں: میں نے قاضی یحیی بن اَکْثَمْ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ''میں نے مامون الرشید سے زیادہ فہیم و تجربہ کار شخص کوئی نہیں دیکھا ۔ ایک رات میں مامون الرشید کے ساتھ احادیث اور دیگر مسائل کاتکرار کر رہا تھا۔ اس پر نیند کا غلبہ ہوا اور وہ سوگیا۔ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ گھبراکر اُٹھ بیٹھا اور مجھ سے کہا: اے یحیی! دیکھو میرے پاؤں کے پاس کوئی چیز ہے ؟ میں نے دیکھا تومجھے کوئی چیز نظر نہ آئی، میں نے کہا:…Read more

ذکر الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی برکت

حضرتِ سیِّدُنا علی بن محمدحَلْوَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خَوَّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق ''رَے''کی جامع مسجد میں اپنے رفقاء کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، اتنے میں ایک ہمسائے کے گھر سے گانے باجے کی آواز سنائی دی، اس آواز سے مسجد میں موجود تمام لوگ پریشان ہوگئے۔ کسی نے کہا :'' اے ابو اِسحاق علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق !اب کیا کیا جائے ؟ ''یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد سے نکلے اور اس گھر کی طرف چل دیئے جہاں سے…Read more

اُ ستا ذ ہو توا یسا

حضرت سیِّدُنا محمد بن عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر ''طَرَسُوْس'' کی طرف جاتے اور وہاں ایک مسافر خانے میں ٹھہرتے ، ایک نوجوان آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حدیث سنا کرتا ، جب بھی آپ ''رِقَّہ'' (نامی شہر میں ) تشریف لاتے وہ نوجوان حاضرِ خدمت ہوجاتا ۔ ایک مرتبہ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ''رِقَّہ' ' پہنچے تو اس نوجوان کو نہ پایا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس وقت جلدی میں…Read more

بولنے کا نقصان

    ایک مرتبہ بادشاہ بہرام کسی درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا کہ اسے کسی پرندے کے بولنے کی آواز سنائی دی ۔ اس نے پرندے کی طرف تیر پھینکا جو اسے جالگا (اور وہ ہلاک ہوگیا)۔ بہرام نے کہا :''زبان کی حفاظت انسان اور پرندے دونوں کے لئے مفید ہے کہ اگر یہ نہ بولتا تو اس کی جان بچ جاتی ۔''  (المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر ،ج۱، ص ۱۴۷)Read more

تیرتی ہوئی ہنڈیا

    حضرتِ سیِّدُناابو مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ''میں نے حضرتِ سیِّدُنااَسْوَد بن سَالِم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' ایک مرتبہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ''طَرَسُوْس'' کی طرف روانہ ہوا ، جب وہاں پہنچے تو جہاد کے لئے صدائیں بلند ہو رہی تھیں، کفار سے لڑنے کے لئے طَرَسُوْس کے مجاہد روم کی طرف جارہے تھے۔ ہم بھی مجاہدین کے ساتھ دشمن کی سر کوبی کے لئے روانہ ہوگئے ، روم کے کسی علاقے میں میرا رفیق بیمار ہوگیا میں نے اس سے پوچھا…Read more

مکۂ معظَّمہ کی شان

حضرتِ سیِّدُنا عبدالعزیز اَہْوَازِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ علیہ رحمۃاللہ نے مجھ سے فرمایا : ''بے شک کسی ولی کا لوگوں سے میل جول رکھنا اس کے لئے ذلت کا باعث ہے اور لوگوں سے علیحدگی باعث ِ عزت۔ اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جنہوں نے گو شہ نشینی اختیار نہ کی ہو ۔حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول ولی تھے، ان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت عطائیں…Read more

اچانک دیوارشق ہوگئی

    حضرتِ سیِّدُنااحمدبن محمد صوفی علیہ رحمۃاللہ القوی سے مروی ہے کہ میں نے اپنے استاذ حضرتِ سیِّدُنا ابو عبداللہ بن ابوشَیْبَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا :'' ایک مرتبہ میں بیْتُ الْمُقَدَّسْ میں تھا۔ میری خواہش تھی کہ آج رات مسجد میں ہی قیام کروں اور تنہا عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مصروف رہوں۔ لیکن مجھے وہاں رات گزارنے کی اجازت نہ ملی۔ کچھ دنوں بعد دوبارہ مسجد میں گیا تو بر آمدے میں کچھ چٹائیاں رکھی دیکھیں ، میں عشاء کی نمازِ باجماعت ادا کرکے چٹائیوں کے پیچھے چھپ…Read more

دو عظیم بزرگ

حضرتِ سیِّدُناحُذَیْفَہ مَرْعَشِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے مروی ہے کہ ''جب حضرتِ سیِّدُنا شَقِیْق بَلْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًا آئے تو حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم بھی وہاں موجود تھے ، دونوں عظیم بزرگ مسجدِ حرام میں جمع ہوئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے حضرتِ سیِّدُنا شَقِیْق بَلْخِی علیہ رحمہ اللہ القوی سے پوچھا: ''رزق کے معاملے میں تمہارا کیا حال ہے؟''فرمایا: ''جب کھانے کو مل جاتاہے تو کھالیتے ہیں، اگر نہ ملے تو صبر کرتے…Read more